ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری زمین پرکرشنابائرے گوڈاکا غیرقانونی قبضہ جعلی دستاویزات تیار کرنے بی جے پی کارپوریٹر رمیش کا الزام

سرکاری زمین پرکرشنابائرے گوڈاکا غیرقانونی قبضہ جعلی دستاویزات تیار کرنے بی جے پی کارپوریٹر رمیش کا الزام

Mon, 03 Apr 2017 11:30:12    S.O. News Service

بنگلورو:2؍اپریل(ایس او نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بنگلور شہری ضلع کے ترجمان وسابق کارپوریٹر این آر رمیش نے دوبارہ الزام لگایاہے کہ وزیر برائے زراعت کرشنا بائرے گوڈا کے طرفدار شہر کی مضافات کوڈا گلاہٹی میں واقع سرکاری زمینات پر ناجائز قبضہ جات کرکے جعلی دستاویزات بنارکھے ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ کوڈا گلاہٹی گرام پنچایت کی حدود میں آنے والے سنگاپور دیہات میں جملہ 117.13؍ ایکڑ سرکاری زمین پر غیرقانونی طریقہ سے قبضہ کیاگیاہے۔ اس کی قیمت تقریباً 1800؍کروڑ روپئے ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مذکورہ علاقہ بیٹ رائن پورہ اسمبلی حلقہ کے یلہنکا ہوبلی سنگاپور دیہات کے سروے نمبر 109میں 117 ایکڑ زمین پر غیرقانونی طریقہ سے قبضہ جات کئے جاچکے ہیں۔ اس لئے انہوں نے وزیراعلیٰ سے پرزور مانگ کی کہ وہ اس معاملہ کی عدالتی جانچ کرائیں۔ انہوں نے بتایاکہ سنگاپور دیہات کے226.15؍ ایکڑ سرکاری زمین میں لگ گیرے میں مقیم افراد کو وہاں سے ہٹائے جانے کے بعد یہاں رہنے کا موقع دیا گیاتھا۔ ان افراد کو آشریہ اسکیم کے تحت جنتا سائٹ کے علاوہ کرناٹک سلم کلینز بورڈ نے بھی یہاں سائٹیں فراہم کی ہیں۔ اس جگہ 82؍ایکڑ علاقہ میں غیر قانونی طریقہ سے عمارتیں بھی تعمیر ہونے لگی ہیں۔ مسٹر رمیش نے بتایاکہ سنگاپور لے آؤٹ ہاؤزنگ سوسائٹی، بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) دفتر، گنگابھون تعمیر کرنے کے لئے صرف 2.34؍ایکڑ زمین فراہم کی ہے۔ جبکہ 117؍ایکڑزمین پر لگ گیرے سے ہٹائے گئے متاثر افراد کے نام پر وزیر برائے زراعت کے طرفداروں نے قبضہ کرلیاہے۔ انہوں نے بتایاکہ مذکورہ زمین میں جملہ 48.32؍ایکڑ زمین گومال ہے۔ جبکہ 68.21؍ایکڑ زمین ہے جہاں 51؍ہزار اسکوائر فیٹ سرکاری زمین پر غیرقانونی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں جن کی قیمت 1800؍کروڑ روپئے ہے۔ مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ جب سے کرشنا بائرے گوڈا اس حلقہ کے رکن اسمبلی وریاستی وزیر بنے ہیں اس علاقہ میں 5؍مرتبہ سرکاری زمینات پر غیرقانونی قبضہ جات کو ہٹائے جانے کی کارروائی ہوچکی ہے اور غیرقانونی قبضہ جات ہوئے ہیں۔ وہ مذکورہ وزیر کے طرفداروں سے ہی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اس زمین پر 15؍نجی افراد کو غیرقانونی طریقہ سے رجسٹرڈ بھی کرایا گیاہے۔ یہاں کھیتی کے لئے آنے والے کسانوں کو ڈرا دھمکاکر واپس بھیجا گیاہے اور وزیر موصوف کے طرفداروں کو زمین رجسٹر کرکے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سال 2007-08ء سے لے کر 2016-17ء تک بنگلور نارتھ تعلقہ میں کام کرچکے تحصیلدار روینیو افسر اور ولیج اکاؤنٹس افسر نے مل کر سرکاری زمین کو نجی افراد کے نام رجسٹرڈ کروانے میں مددکی ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کی عدالتی جانچ کرواتے ہوئے اس میں میں ملوث افسروں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ مسٹر رمیش نے بتایاکہ اس علاقہ کے سنگاپور اور ابی گرے تالابوں پر بھی ناجائز قبضہ جات کرکے تالابوں کا نشان بھی مٹاکر رکھا دیاگیاہے۔ رمیش نے اخباری کانفرنس کے دوران اس علاقہ میں کام کرچکے سرکاری افسر کے ناموں کو بھی اجاگر کیا اور کہاکہ اس نے اس معاملہ کو لے کر بنگلور میٹرو پالیٹن ٹاسک فورس (بی ایم ٹی ایف) میں بھی شکایت درج کرائی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی گورنر اور بنگلور شہری ضلع کے ڈپٹی کمشنر شنکر سے بھی شکایات کی ہیں۔ ملاقات کے دوران اہم دستاویزات بھی پیش کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سنگاپور لے آؤٹ میں 117؍ایکڑ زمین جنتا لے آؤٹ، شمشان گھاٹ، دھوبی گھاٹ، ڈمپنگ یارڈ، بی بی ایم پی دفتر اور کنکا بھون کے لئے مختص رکھی گئی تھی۔ یہاں غیر قانونی قبضہ جات کی وجہ سے مذکورہ کوئی بھی عمارت اب تک تعمیر نہیں ہوسکی ہے۔


Share: